error: برائے مہربانی اسے شیئر کیجئے۔۔۔!! شکریہ
خبر و نظر
کتابیں

کتاب کی معلومات

Two Flowers of Gulshan-e-Rizvia
  • نامگلشن رضویہ کے دو پھول
  • مصنف سید محمد مبشر قادری
  • موضوع فضائل  
  • ناشر ضیائی دارالاشاعت
  • زباناردو
  • کل قارئین3177
  • ڈاؤن لوڈ ضیائے طیبہ کا ریسرچ پینل اس کتاب کی کھوج میں ہے یہ کتاب اب تک ادارے کو پی ڈی ایف فورمیٹ میں یا ہارڈ کاپی میں حاصل نہیں ہوسکی البتہ کسی صاحب علم یا علم دوست کے پاس اس کتاب تک رسائی یا معلومات ہوں تو ادارے کو ضرور فراہم کر کے شکریہ کا موقع دیں.

گلشن رضویہ کے دو پھول

الحمد للہ رب العالمین والصلوٰۃ والسلام علی سیدالمرسلین وعلی الہ وصحبہ اجمعین

امابعد

حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والتسلیم کا فرمان عالی شان ہے:

عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ

نیک اور صالح بندوں کے ذکر کرنے سے اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے [1]

دین مصطفی ﷺ کے چمن کی آبیاری کرنےوالے مخلصین باغبانوں میں امام احمد رضا علیہ الرحمہ کا مقام و مرتبہ یہ ہے کہ باغبانی کرتے کرتے اپنے جمالیاتی ذوق و شوق کا گلشن اسلامیان عرب تاہند مہکایا اور اسی گلشن رضویہ کے دو پھول قطب مدینہ حضرت خواجہ شاہ ضیاء الدین احمد مدنی قدس سرہ دنیا ئے عرب میں مہکتے رہے جب کہ قاری مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ نے پاک و ہند کے جوار و دیار میں بسنے والوں کی مشام جاں کو معطر کیا۔

حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ کی سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ سے پہلی ملاقات ۱۹۵۴ء کے سفر حج میں ہوئی جہاں آپ نے مدینہ منورہ میں سیدی قطب مدینہ کی زیارت کی جس کا ذکر آپ خود اس طرح فرماتے ہیں کہ:

’’حضرت مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ سے ۱۹۵۴ء میں جب یہ فقیر پہلی مرتبہ حرمین شریفین کی حاضری کے لئے گیا تو مکہ مکرمہ کی حاضری کے بعد مدینہ منورہ پہنچے تو پہلے ہی سے معلوم تھاکہ اعلیٰ حضرت کے نہایت یہ معمر خلیفہ مدینہ منورہ میں موجود ہیں، لہٰذا ان کی خدمت میں حاضری دی، پہلی حاضری میں حضرت کی شخصیت اور حضرت کی بزرگی کا دل پر اس قدر گہرا اثر پڑا کہ صبح و شام آپ کی بار گاہ میں حاضری ہوتی رہتی‘‘ [2]

حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ مدینہ منورہ قیام کے دوران حاضری دربار رسالت مآب ﷺ کے بعد زیادہ وقت سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کی خدمت میں رہتے اور سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کی خانقاہ ہی میں قیام فرماتے ۔

ایک روز حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ نے سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ سے عرض کیا کہ ہمیں اپنے ساتھ سرکار ﷺ کے دربار میں حاضری کا شرف بخشیں ! سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ نے ان کی درخواست کو قبول فرمایا اور اپنے ساتھ لے کر سرکارﷺ کے روضہ انور پر حاضری دی، بارگاہ رسالت میں ہدیہ صلوٰۃ و سلام عرض کرنے کے بعد امیر المؤمنین سیدناصدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حضور نذرانہ عقیدت و سلام پیش کیا، اس کے بعد بقیع شریف گئے۔ [3]

سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ سے جو بھی اکتساب فیض کے لئے آتا تو حضرت ان سے بڑی محبت و شفقت سے پیش آتے اور انہیں اپنے مکان جنت نشان میں کھانے کی دعوت کے ساتھ ساتھ بعد عشاء روزانہ بلا ناغہ ہونے والی محفل میلاد میں شرکت کی دعوت دیتے۔ حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ بھی دورانِ قیام محفل میلاد میں شرکت کرتے۔ حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ:

’’۱۹۵۴ء میں اس فقیر کو حاضری کا موقع ملا تو حضرت فرماتے! قاری صاحب ہم کو راحت پہنچائیے اور قرآن کی تلاوت کیجئے یا حضور تاجدار مدینہ ﷺ کی نعت پڑہئے‘‘۔ [4]

سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ اپنی مجالس میلاد میں حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ سے زیادہ نعت سماعت فرماتے تھے۔ حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ ’’قطب مدینہ علیہ الرحمہ کو خصوصیت کے ساتھ اعلیٰ حضرت کی نعت سننے کا بڑا اشتیاق تھا، چنانچہ جب بھی آپ کی خدمت میں بیٹھنے کا اتفاق ہوا تو آپ ہمیشہ فرمائش کرتے تھے‘‘ [5]

جمیل ملت حضرت علامہ جمیل احمد نعیمی ضیائی مدظلہ العالی اپنے ایک خطاب میں فرماتے ہیں کہ :

’’یہ ۱۹۸۰ء کا واقعہ ہےکہ جب زیارت حرمین شریفین کا شرف اس فقیر کو بھی حاصل ہوا اور میرے پیرو مرشد حضرت علامہ ضیاء الدین صاحب قطب مدینہ علیہ الرحمہ کے یہاں جیسا کہ معمول تھا نماز عشاء کے بعد محفل میلاد ہوا کرتی تھی۔ آندھی آئے ۔۔۔طوفان آئے۔۔۔گرمی ہو۔۔۔۔سردی ہو۔۔۔ حرارت ہو۔۔۔برودت ہو۔۔۔۔ کسی قسم کی کوئی صورت ہو۔۔۔۔

لیکن حضرت کے یہاں میلاد شریف کا کبھی ناغہ ان آنکھوں نے نہیں دیکھا۔ حضرت علامہ قادری مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ بھی وہاں تشریف لائے، حضرت علامہ شیخ الحدیث والتفسیر مولانا سید احمد سعید صاحب کاظمی علیہ الرحمہ اور بریلی شریف اور ہندوستان سے تشریف لائے ہوئے بعض علماء اور پاکستان سے بعض علماء جو تشریف لے گئے تھے، جب قاری صاحب علیہ الرحمہ سے فرمائش کی گئی تھی اور انہوں نےحضرت مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ کے مکان میں وہ نعت شریف پڑھی جس کا مطلع یہ ہے

دل درد سے بسمل کی طرح لوٹ رہا ہو
سینے پہ تسلی کو تیرا ہاتھ دھرا ہو [6]

تو نہ صرف یہ کہ ہندوستان اور پاکستان کے علماء ان کی نعت شریف کو۔۔۔ان کے انداز ۔۔۔ کو ان کی والہانہ کیفیت کو۔۔۔ ان کی اس وار فتگی کو دیکھ کر حیرت زدہ تھے بلکہ شام کے علماء اور مصر کے جو علماء تھے وہ بھی حجرت قاری صاحب علیہ الرحمہ کی آواز سے متاثرہو کر عشق رسول ﷺ میں سبھی تڑپ اور مچل رہے تھے۔‘‘ [7]

حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ نے ۱۹۷۰ء کے حج کےمبارک ایام بھی سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کے ہمراہ گزارے جس کا ذکر حضرت مصلح اہلسنت خود فرماتے ہیں کہ:

’’۱۹۷۰ء میں یہ فقیر حاضرہوا تھا تو بھائی حاجی انور توکل کے ساتھ ہم مولانا کو اپنی گاڑی میں لے کر مکہ مکرمہ بھی گئے۔۔۔ وہاں سے منیٰ و عرفات بھی گئے۔۔۔ تمام مقامات مقدسہ کی زیارت کی۔۔۔۔ اس موقع پر مولانا کو شب و روز دیکھنے کا موقع ملا۔۔۔ مولانا کی خوبیاں کیا بیان کی جائیں کہ ہمیشہ کچھ نہ کچھ وظائف میں مصروف رہتے ۔۔۔۔ یا ذکر قلبی میں مصروف ہوتے تھے۔۔۔ اور اگر چپ بھی بیٹھتے تو یوں لگتا کہ آپ کا قلب ذکر الہٰی میں مشغول ہے اور وہ اللہ اللہ کر رہا ہے۔۔۔ مزدلفہ کی رات بھی عجیب رات تھی کہ رات میں مولانا بوجود کمزوری کے بڑھاپے میں کمبل کندھے تک اوڑھ کر ذکر الہٰی میں مصروف رہےاور زارو قطار آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوئے تھے۔۔۔۔ منیٰ میں محفل پاک منعقدہوتی تھی اور وہاں بہت سے لوگ نعت پڑھنے کے لئے آتے ۔۔۔۔ مولانا کی تشریف آوری کا سن کر دور دور سے لوگ آتے اور مولانا کی خدمت میں حاضر ہو کر جاتے تھے۔‘‘ [8]

سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کو بھی حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ سے بڑی محبت تھی، حضرت مصلح اہلنست علیہ الرحمہ بیان فرماتے ہیں کہ حضرت ضیاء الملت علیہ الرحمہ اپنے کرم خاص سے فرماتے کہ :

’’میرے تمام مریدین آپ کے ہیں ‘‘ [9]

حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ کا جب بھی تذکرہ ہوتا تو سیدی قطب مدینہ قد سرہ فرماتے کہ:

’’وہ نیک آدمی ہیں، بہت بزرگ ہیں‘‘

اور فرماتے :

’’کراچی میں سب کچھ انہیں کے قدموں کی برکت ہے‘‘ [10]

نیز فرماتے ہیں کہ :

’’حضرت قاری مصلح الدین صاحب ، اسم بامسمیٰ ہیں ‘‘ [11]

سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ کے بارے میں یہ بھی فرماتے کہ:

’’بکھرے ہوئے ذہنوں کو خوب قابو کرنا جانتے ہیں ‘‘

بقول نثار میمن صاحب کہ سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کے دربار میں بار ہا دیکھا کہ کوئی مولانا ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ سے شرف بیعت کے لئے آتا تو آپ قاری صاحب سے اسے بیعت کروا دیتے اور فرماتے کہ میرے سارے مرید قاری صاحب کے مرید ہیں ۔

سیدی قطب مدینہ قدس السرہ کے خادمِ خاص و مرید حضرت مولانا ابوالقاسم قادری ضیائی مدظلہ العالی بیان کرتے ہیں کہ قطب مدینہ فرمایا کرتے تھےکہ ’’جو میرا مرید ہے وہ قاری صاحب کا مرید ہے اور جو قاری صاحب کا مرید ہے وہ میرا مرید ہے۔‘‘

حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ ۔۔۔ نہایت دیندار۔۔۔ صوفی باصفا۔۔۔ باادب۔۔۔ سادہ طبیعت کے مالک تھے۔۔۔ اور حافظ ملت علیہ الرحمہ کی تربیت کے طفیل انہیں سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کی بارگاہ میں بڑا قرب حاصل رہا اور سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ نے آپ کو اجازت و خلافت سے بھی نوازا۔

حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ نے سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کی حیات طیبہ میں بھی ان کی خدمت کا ذکر گا ہے بگا ہے کیا ۔۔۔ ۱۹۷۴ء میں آپ نے ایک خطاب کیا جس میں سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کے حالات زندگی پر روشنی ڈالی اور اپنے سفر حج کی روئیداد اور سیدی قطب مدینہ کے ساتھ گزارے وہ مبارک لمحات بیان کئے۔۔۔ جس کے چند اقتباسات سطور گذشتہ میں آپ ملاحظہ فرماچکے ہیں۔ حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ نے اپنے اس خطاب کے اختتام پر یہ بیان فرمایاکہ:

’’فقیر نے جوکچھ اس کی معلومات میں تھی عرض کر دی، تاکہ یہ نئے رضوی جو ہمارے بھائی ہیں ان کو مولانا کی شخصیت سے تھوڑا سا تعارف حاصل ہوجائے، تو میں اپنی معلومات کے مطابق یہ چند کلمات کہے ہیں۔ ‘‘ [12]

حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ کی وابستگی و محبت کا اظہار سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کےوصال کے بعد بھی یوں ملتا ہے کہ سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کا پہلا عرس ۲۲ستمبر ۱۹۸۲ء کو جبل احد سے متصل اور حضرت سیدالشہداء سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مزار کے دامن میں دانیال ہال میں منعقد کیا گیا اور اس پروقار تقریب میں حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ کا بڑا رقت انگیز خطاب ہوا۔ جس میں وہ سیدی قطب مدینہ علیہ الرحمہ کی حالات زندگی اور ان کی کرامات بیان فرماتے رہے ۔ [13]

قارئین محترم ! ان سطور کے مطالعہ سے یہ معلوم ہوا کہ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کی تعلیمات ۔۔۔۔ ان کی افکار و نظریات اور مسلک اعلیٰ حضرت کا پر چار کرنا حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ کی خدمات جلیلہ کا ایک اہم باب ہے جس پر گفتگو کرنے کے لئے دفتر درکار ہے۔

اللہ تبارک وتعالیٰ کی بار گاہ میں دعا ہے کہ اپنے حبیب کریم ﷺ کے صدقے و طفیل تمام وابستگان و حاملین اہلسنت (کہ یہی ملت اسلامیہ ہے) کو اپنے اکابرین و اسلاف کے تذکرے پڑھ کر ان کے فیوضات سے مستفیض ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین یا رب العالمین

 

حضرت مصلح اہلسنت علیہ الرحمہ ایک نظرمیں [14]

حضرت علامہ قاری محمد مصلح الدین صدیقی رحمۃ اللہ علیہ حافظ قرآن تھے۔۔۔ استاذِ قرأتھے۔۔۔ صوفی باصفاتھے۔۔۔ ولی کامل تھے۔۔۔ زائر حرمین تھے۔۔۔ پیر طریقت تھے۔۔۔ ولی نعمت تھے۔۔۔ حاملِ شریعت تھے۔۔۔ حامی سنت تھے۔۔۔ ماحی بدعت تھے۔۔۔ بقیہ سلف تھے۔۔۔ سرمایۂخلف تھے۔۔۔ اللہ کی رحمت تھے ۔۔۔ ضیائے اسلام تھے ۔۔۔ غواصِ بحرِ معرفت تھے۔۔۔ واقف حقیقت تھے۔۔۔ مرجع انام تھے۔۔۔ ماہتابِ رشدوہدایت تھے۔۔۔ خورشید علم و آگہی تھے۔۔۔ حسنِ اخلاق کے مجسّم نمونہ تھے۔۔۔ آسمان ِ ولایت کے آفتاب ِ نیم روز تھے۔۔۔ زہد و تقویٰ کے ماہِ نیم شب تھے۔۔۔ علم و عرفان کے بحر نا پیدا کنار تھے۔۔۔ فنِ خطابت کے شہسوار تھے۔۔۔ صبر واستقلال کے کوہِ گراں تھے۔۔۔ تسلیم و رضا کے نورانی پیکر تھے۔۔۔ عہد و وفا کے حسین مجسمہ تھے۔۔۔ آشنائے عرفانِ منزل تھے۔۔۔ مردِ مومن تھے۔۔۔ مومن ِ کامل تھے۔۔۔ کردار کے غازی تھے۔۔۔ عاشقِ رسول ﷺ تھے۔۔۔ مودبِ سادات تھے۔۔۔ محبِ اہلبیت تھے۔۔۔ عظمت صحابہ کے پاسبان تھے۔۔۔ اولیاء کے جانثار تھے۔۔۔ اصفیاء کے مایۂ ناز تھے۔۔۔ علماء کے سرتاج تھے۔۔۔ اکابر کی راحت تھے۔۔۔ اہلسنّت کے سرمایۂ افتخار تھے۔۔۔ عوام کے رہبر تھے۔۔۔ فرزندان توحید کے لئے مینار ۂ نور تھے۔۔۔غلام جیلانی کے نورنظر تھے۔۔۔ مخدوم بی کے لخت جگر تھے۔۔۔ صلاح۔۔۔ مصباح و معین کے والد بزرگوار تھے۔۔۔ شاہ تراب الحق کے خسر شفیق تھے۔۔۔ سید حبیب اور اسعد صدیقی کے جدِ امجد تھے۔۔۔ قندھار کے ساکن تھے۔۔۔ مصباح العلوم کے طالب تھے۔۔۔ امجدیہ کے مدرس تھے۔۔۔ امام اعظم کے مقلد تھے۔۔۔ غوث ورضا کے مظہر تھے۔۔۔ داتا گنج بخش کے فدائی تھے۔۔۔ خواجہ ہند کے شیدائی تھے۔۔۔ ابوالعلاء امجد علی کی امیدوں کے مرکز تھے۔۔۔ حجۃ الاسلام کے نقیب تھے ۔۔۔ محدث پاکستان کے قرۃ العین تھے۔۔۔ حافظِ ملت کے شاگرد رشید تھے۔۔۔ مفتی اعظم ہند ۔۔۔ اور ۔۔۔ قطب مدینہ کے خلیفہ تھے۔۔۔ آخوند۔۔۔ اور ۔۔۔ میمن مسجد کے امام و خطیب تھے۔۔۔ بزم رضا کے بانی تھے۔۔۔ انوار القرآن کے سرپرست تھے۔۔۔ سلسلۂ رضویہ کے یاد گار تھے۔۔۔ ہمارے پیرو مرشد تھے۔

 

مجھ سے خدمت کے قدسی کہیں ہاں رضا
فیضیاب اعلیٰ حضرت بریلی سے شاہ
جن کی ہر ہر ادا سنت مصطفی ﷺ
جن کی باب مجیدی میں چمکی ضیاء
ایسے شیخ طریقت پہ لاکھوں سلام
زندگی میں ہمیں جو ملا ہے کبھی
مصلح الدین ہی کی ہے برکت سبھی
جب پکارا ہر حاجت برآئی میری
تیرا فیضان ہمیشہ رہے مرشدی
ان کی نورانی تربت پہ لاکھوں سلام



[1] ۔کشف الخفاء، ۱۷۷۲، ۲/ ۸۱، اتحاف السادۃ المتقین، جلد ۳۵۰/ ۶، المغنی عن حمل الاسفار، ۲/ ۲۳۱، الفوائد المجموعہ، صفحہ۵۰۸، تذکرہ الموضوعات، صفحہ ۱۹۳، الاسرار المرفوعۃ، صفحہ ۲۴۹، حلیۃ الاولیاء، ۳۳۵/۷، رقم ۱۰۷۵۰، موسوعۃ اطراف الحدیث، ۴۹۹/ ۵، ذکر اولیااللہ کے فوائد و منافع، حضرت قاری مصلح الدین صدیقی علیہ الرحمہ، صفحہ۲۔

[2] ۔ خطاب ۱۹۷۴ء بحوالہ انوار قطب مدینہ صفحہ ۳۶۹

[3] ۔ تذکرہ مصلح اہلسنت، علامہ بدرلقادری، صفحہ۱۷

[4] ۔ خطاب ۱۹۷۴ ء بحوالہ انوار قطب مدینہ صفحہ ۳۶۹

[5] ۔ ایضاً

[6] ۔ ذوق نعت، مولانا حسن رضاخان بریلوی علیہ الرحمہ

[7] ۔تذکرہ مولاناقاری مصلح الدین صدیقی، ڈاکٹر جلال الدین ، صفحہ۵۶

[8] ۔خطاب ۱۹۷۳ء بحوالہ انوار قطب مدینہ صفحہ ۳۷۱

[9] ۔ تذکرہ مصلح اہلسنت ، علامہ بدرالقادری، صفحہ ۱۷

[10] ۔انوار قطب مدینہ، صفحہ ۲۲۹

[11] ۔ تذکرہ مصلح اہلسنت ، علامہ بدرالقادری، صفحہ۲۹

[12] ۔خطاب ۱۹۷۴، بحوالہ انوار قطب مدینہ صفحہ ۳۷۳

[13] ۔ تذکرہ مولانا قاری مصلح الدین صدیقی، ڈاکٹر جلال الدین ، صفحہ ۱۰۲

[14] ۔ مولانا غلام محمد قادری، دارالمکتب حنفیہ، کراچی



تجویزوآراء

0.78540802001953

Copyright © All Rights Reserved by Zia-e-Taiba

Designed & developed by PKSOL

Customize

layout

Examples of colors

Sticky Navigation

Navigation Shadow

Navigation icon

Dropdown Menu Effect